اشعار
وقت ہے بس اتنا ہے سمجھ رہا ہوں
خود کی جنگ میں الجھ ہوا ہوں
بس اتنی سی آرزو ہے میری جب
کسی پہل میں بکھر جو رہا ہوں
کہانیوں قصوں سے متعبر حوالہ ہے
جہاں کہیں بھی میں ذکر رہا ہوں
کہتے ہیں لوگ کہ ڈر گیا ہوں مگر
آج بھی میں ویسے ہی ابھر رہا ہوں
کھولتا ہوا خون دیکھ کر کئی ہزار
طبیبوں سے بھی نہ ہی سنبھل رہا ہوں
بربادیوں کے جو قصے سناتے ہوئے
تڑپ کر انکی روانیاں سن رہا ہوں
میرے محسن جو وفا ملی ہے مجھے
اسکو بس اب سمیٹ ہی رہا ہوں
تیری عزل اور تیری ہی نظم سے
لاکھوں دلوں کو پکڑ رہا ہوں
سبق ملا جو مجھے انسانیت کا بس
اب وہی حرفِ حق کو لکھ رہا ہوں
(مہر محمد رفیع خان سیال)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں