اشاعتیں

اگست 20, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اسرائیل کیا ہے؟

 اسرائیل مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو بحیرہ روم کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام، مشرق میں اردن، مشرق اور جنوب مشرق میں فلسطین اور جنوب میں مصر، خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر واقع ہیں۔ اسرائیل خود کو یہودی جمہوریہ کہلاتا ہے اور دنیا میں واحد یہود اکثریتی ملک ہے۔ نومبر، 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا۔ 14 مئی، 1948ء کو ڈیوڈ بن گوریان نے اسرائیل کے ملک کے قیام کا اعلان کیا۔ 15 مئی، 1948ء کو یعنی اعلان آزادی کے اگلے روز کئی ہمسایہ ممالک نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ بعد کے برسوں میں بھی کئی بار اسرائیل کے ہمسایہ ممالک اس پر حملہ کر چکے ہیں۔ اسرائیل کا معاشی مرکز تل ابیب ہے جبکہ سب سے زیادہ آبادی اور صدر مقام یروشلم کو کہا جاتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی طور پر یروشلم کو اسرائیل کا حصہ نہیں مانا جاتا۔ نسلی اعتبار سے اسرائیل میں اشکنازی یہودی، مزراہی یہودی، فلسطینی، سفاردی یہودی، یمنی یہودی، ایتھوپیائی یہودی، بحرینی یہودی، بدو، دروز اور دیگر بے شمار گروہ موجود ہیں۔ 2014ء میں اسرائیل کی کل آبادی 8146300 تھی۔ ان میں سے 61...

اشعار

 وقت ہے بس اتنا ہے سمجھ رہا ہوں  خود کی جنگ میں الجھ ہوا ہوں  بس اتنی سی آرزو ہے میری جب  کسی پہل میں بکھر جو رہا ہوں  کہانیوں قصوں سے متعبر حوالہ ہے  جہاں کہیں بھی میں ذکر رہا ہوں  کہتے ہیں لوگ کہ ڈر گیا ہوں مگر آج بھی میں ویسے ہی ابھر رہا ہوں  کھولتا ہوا خون دیکھ کر کئی ہزار  طبیبوں سے بھی نہ ہی سنبھل رہا ہوں  بربادیوں کے جو قصے سناتے ہوئے تڑپ کر انکی روانیاں سن رہا ہوں  میرے محسن جو وفا ملی ہے مجھے  اسکو بس اب سمیٹ ہی رہا ہوں  تیری عزل اور تیری ہی نظم سے  لاکھوں دلوں کو پکڑ رہا ہوں  سبق ملا جو مجھے انسانیت کا بس  اب وہی حرفِ حق کو لکھ رہا ہوں  (مہر محمد رفیع خان سیال)