اشاعتیں

اسرائیل کیا ہے؟

 اسرائیل مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو بحیرہ روم کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام، مشرق میں اردن، مشرق اور جنوب مشرق میں فلسطین اور جنوب میں مصر، خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر واقع ہیں۔ اسرائیل خود کو یہودی جمہوریہ کہلاتا ہے اور دنیا میں واحد یہود اکثریتی ملک ہے۔ نومبر، 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا۔ 14 مئی، 1948ء کو ڈیوڈ بن گوریان نے اسرائیل کے ملک کے قیام کا اعلان کیا۔ 15 مئی، 1948ء کو یعنی اعلان آزادی کے اگلے روز کئی ہمسایہ ممالک نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ بعد کے برسوں میں بھی کئی بار اسرائیل کے ہمسایہ ممالک اس پر حملہ کر چکے ہیں۔ اسرائیل کا معاشی مرکز تل ابیب ہے جبکہ سب سے زیادہ آبادی اور صدر مقام یروشلم کو کہا جاتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی طور پر یروشلم کو اسرائیل کا حصہ نہیں مانا جاتا۔ نسلی اعتبار سے اسرائیل میں اشکنازی یہودی، مزراہی یہودی، فلسطینی، سفاردی یہودی، یمنی یہودی، ایتھوپیائی یہودی، بحرینی یہودی، بدو، دروز اور دیگر بے شمار گروہ موجود ہیں۔ 2014ء میں اسرائیل کی کل آبادی 8146300 تھی۔ ان میں سے 61...

اشعار

 وقت ہے بس اتنا ہے سمجھ رہا ہوں  خود کی جنگ میں الجھ ہوا ہوں  بس اتنی سی آرزو ہے میری جب  کسی پہل میں بکھر جو رہا ہوں  کہانیوں قصوں سے متعبر حوالہ ہے  جہاں کہیں بھی میں ذکر رہا ہوں  کہتے ہیں لوگ کہ ڈر گیا ہوں مگر آج بھی میں ویسے ہی ابھر رہا ہوں  کھولتا ہوا خون دیکھ کر کئی ہزار  طبیبوں سے بھی نہ ہی سنبھل رہا ہوں  بربادیوں کے جو قصے سناتے ہوئے تڑپ کر انکی روانیاں سن رہا ہوں  میرے محسن جو وفا ملی ہے مجھے  اسکو بس اب سمیٹ ہی رہا ہوں  تیری عزل اور تیری ہی نظم سے  لاکھوں دلوں کو پکڑ رہا ہوں  سبق ملا جو مجھے انسانیت کا بس  اب وہی حرفِ حق کو لکھ رہا ہوں  (مہر محمد رفیع خان سیال)

【ملکی ترقی اور سیاستدان】

ہمارا ملک پاکستان جب وجود میں آیا تب سے ایک ہموار اور کھٹن حالات سے گزر رہا ہے جسکی کوئی ایک مثال نہیں ملتی وقت کیساتھ ساتھ کچھ لوگ بدلے نئے چہرے ملک پر حاکم بنے جس سے سنا ہر دور کا وقت حاکم خود ہی ایک ہیرو تھا لیکن دور بدلے عرصہ گزرا مگر پاکستان معاشی طور مستحکم حکومت نہ بنا سکا کیونکہ اس ملک پر قابض بیرونی طاقتیں ہمارے ملک کو اجاڑ رہی ہیں فتنہ و خوف اتنا ہو گیا ہے کہ ملکی معیشت کا دارومدار زراعت پر تھا پاکستان میں زراعت خود بیساکھیوں کے بل بوتے پر کھڑی ہے ہمت نہیں کہ اسکو کیسے سدھارا جا سکے۔ہمارے معزز و محترم سیاستدان جو شرافت کا لبادہ اوڑھ کر چلتے ہیں ملکی معیشت و تجارت کا پہیہ جام کرنیوالے سب سے بڑے مافیا نکلے ہیں زراعت 2018 سے لیکر 2022 تک صیح سمت میں جا رہی تھی اور اس سے پہلے زراعت نے 1992 سے 1994 تک اور 2008 سے 2010 اور 2013 سے 2014 میں بس صرف نہ ہونے کے برابر ترقی کی ہے پاکستان صرف 0.1 فیصد زراعت کی ترقی میں نمایاں رہا ہے ہمارا ملک پاکستان ایک نیچلے اور کھوکھلے نعروں پر مشتمل رہا کہ پاکستان کون بچائے گا یہ ہر سیاسی پارٹی کا نعرہ رہا ہے عملی طور کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ایک حکومت آئ...

تجاوزات کی بھر مار

بندبوسن مین شاہراہ پر ریڑھی بانوں کا قبضہ برقرار۔ میونسپل و ضلعی انتظامیہ نے آنکھیں چرا لیں۔ تفصیلات کے مطابق بندبوسن مین شاہراہ پر ریڑھی بانوں کا قبضہ برقرار۔میونسپل و ضلعی انتظامیہ نے آنکھیں چرا لیں۔ریڑھی بانوں نے بوسن روڈ کو سبزی منڈی سمجھ کر ریڑھیاں لگا دیں جبکہ ضلعی انتظامیہ و میونسپل کارپوریشن کی کوئی کاروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ریڑھی بانوں کے قابض ہونے سے کئی ہلاکتیں رونما ہو چکی ہیں بوسن چوک پر ریڑھی بانوں کی وجہ سے کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا۔گزشتہ چند ماہ قبل پٹرولنگ پولیس کی کاروائیوں سے ریڑھی بانوں کا مکمل خاتمہ ہوا تھا لیکن کاروائی میں تاخیر سے دوبارہ مین روڈ سبزی منڈی میں تبدیل ہو گیا۔ہائی وے روڈ کو ایک تنگ دست گلی میں تبدیل کیا جانے لگا جبکہ متعلقہ محکمے کاروائی نہ کرتے ہوئے ملی بھگت کا ثبوت دے رہے ہیں شہریوں کا کمشنر ملتان ڈویژن سے فوری نوٹس لیکر ناجائز تجاوزات و ریڑھی بانوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے

ہمارا سسٹم تباہ ہو گیا؟

تباہ حال نظام کی ادھورے خواب کچھ ریزہ ریزہ تو کچھ بکھرے موتی نظر ان سب پر جو حق ہے دوسروں کا بس انتظار تو یہی ہے کوئی آئے گا۔آجکل سموگ اور پرائس کنٹرول کی نئی لہر برقرار رہنے لگی بس انتظار ہے کہ کب قانون نافظ العمل ہو گا قصہ تمام وقت تھوڑا لوگ ایک ہی سوال ذہنوں میں بھرے ہوئے ہیں کہ کب یہ قانون نافظ ہو گا جو فرضی کاروائی تک ہی نظر آتا ہے باقی ملکوں میں ترقی کا ثمر ہی اس بات کا ہے کہ انہوں نے ترقی کیساتھ اپنے آپ کو ایک بیلنس میں رکھا ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں کہ اگر قانون امیر کے لیے ہے تو غریب کے لیے بھی وہی قانون ہے سبھی اسی چیز کو سمجھنے میں ہی ملک کی ترقی و سلامتی کا حصہ ڈالتے ہیں لیکن واحد ملک عظیم پاکستان جہاں پر قانون صرف کمزور کے لیے ہے غریب بے سہارا فرد واحد کے لیے قانون ہے ملکی حالات کے پیش نظر ایک مکالمہ شروع کر رہا ہوں کہ اب سموگ کاروائیاں جاری ہیں خشت بھٹہ جات کی انسپکشن کیساتھ جرمانہ بھی کیا جاتا ہے لیکن یہ زیگ زیگ پالیسی اور گاڑیوں انسپکشن صرف سردیوں کے قریب ہی کیوں ہوتی ہے اس کی مستقل جانچ کیوں نہیں ہوتی کیوں اسے فردی تربیت کے طور پر کیا جاتا ہے اگر آپ نے قانون ن...

استاد عظیم ہستی ہے

 استاد کون استاد وہ ایک عظیم ہستی ہے جو ایک نہیں بلکہ ایک لاکھ ایک ہزار ایک کروڑ بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرتا ہے اسے کہتے ہیں استاد؟استاد کی کہانی کچھ یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ کچھ عرصہ پہلے یہ دنیاوی تعلیم کے علاوہ دینی تعلیم میں ایک استاد ہوتا تھا جسے معلم کہتے تھے معلم،عالم،استاد ایک ہی ہوتے ہیں کیونکہ ان تینوں لفظوں نے صرف اور صرف علم کی روشنی سے ایک بت کو پر کرنا ہوتا ہے لیکن یہاں تو قانون ہی کچھ الگ ہے ترامیم کچھ الگ ہیں ہر دفعہ اساتذہ کو تنگ کرنے کے لیے ایک نیا ترامیمی بل پیش کیا جاتا ہے جس میں کبھی لیو انکیشمنٹ کبھی نجکاری تو کبھی پینشن ختم کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں یہ قانون؟ یہ ترامیم ؟ یہ لا ؟ یہ جسٹس بنانے والا صرف اور صرف ایک استاد ہے کیونکہ استاد نے ایک بچے کو علم دے کر اسے روح میں تبدیل کرکے ایک جسم بنایا اسے لا سکھایا اسے قانون میں ترامیم کرنا سکھایا تو آج اس استاد کی بے حرمتی کرنا حکومت پاکستان کو زیب نہیں دیتا ہمارے غریب غرباء کے بچوں کو ایک سہارا سرکاری سکولوں کا ہوتا ہے جو ابھی ہمیں بکھرتا ہوا ریزہ ریزہ نظر آ رہا ہے کیوں کیا غریب کے بچے کو علم حاصل کرنے کا کوئی...