استاد عظیم ہستی ہے

 استاد کون استاد وہ ایک عظیم ہستی ہے جو ایک نہیں بلکہ ایک لاکھ ایک ہزار ایک کروڑ بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرتا ہے اسے کہتے ہیں استاد؟استاد کی کہانی کچھ یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ کچھ عرصہ پہلے یہ دنیاوی تعلیم کے علاوہ دینی تعلیم میں ایک استاد ہوتا تھا جسے معلم کہتے تھے معلم،عالم،استاد ایک ہی ہوتے ہیں کیونکہ ان تینوں لفظوں نے صرف اور صرف علم کی روشنی سے ایک بت کو پر کرنا ہوتا ہے لیکن یہاں تو قانون ہی کچھ الگ ہے ترامیم کچھ الگ ہیں ہر دفعہ اساتذہ کو تنگ کرنے کے لیے ایک نیا ترامیمی بل پیش کیا جاتا ہے جس میں کبھی لیو انکیشمنٹ کبھی نجکاری تو کبھی پینشن ختم کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں یہ قانون؟ یہ ترامیم ؟ یہ لا ؟ یہ جسٹس بنانے والا صرف اور صرف ایک استاد ہے کیونکہ استاد نے ایک بچے کو علم دے کر اسے روح میں تبدیل کرکے ایک جسم بنایا اسے لا سکھایا اسے قانون میں ترامیم کرنا سکھایا تو آج اس استاد کی بے حرمتی کرنا حکومت پاکستان کو زیب نہیں دیتا ہمارے غریب غرباء کے بچوں کو ایک سہارا سرکاری سکولوں کا ہوتا ہے جو ابھی ہمیں بکھرتا ہوا ریزہ ریزہ نظر آ رہا ہے کیوں کیا غریب کے بچے کو علم حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیا اس معلم استاد اس مولوی کا کوئی حق نہیں ہے جو اپ کے بچوں کو الف جسے سیدھا کہنا نہیں آتا اسے الف سے لے کر پی ایچ ڈی گریجویٹ بناتا ہے کیا اس کے ساتھ یہ سلوک اچھا نہیں ہے استاد وہ ہستی ہے جو ایک ڈھانچے کو اصل صورت میں سنوارتا ہے پھر اس کی دیکھ بھال کرتا ہے پھر اس کے ساتھ اخلاق کے دائرے میں بات کرتا ہے تاکہ یہ مجھ سے سیکھ کر اگلے لوگوں تک میرا اخلاق پھیلائے تاکہ جہاں بھی کھڑا ہو یہ مجھے خوشی ہو کہ یہ میرا شاگرد ہے اور میرے اخلاق کو ہر جگہ پھیلا رہا ہے استاد کبھی کسی لالچ میں شاگرد کو کوئی سبق نہیں دیتا بلکہ اسے اچھا انسان اور معاشرے کی صیح دیکھ بھال کے لیے ایک اچھا سبق دیتا ہے تاکہ اسی سے کل نیا کل شروع ہو اور آنے والے وقتوں میں وہ ایک اچھا انسان بن سکے دین اسلام کی ہر ایک بات کو جان سکے جس سے وہ بے خبر ہے لیکن حکومت پنجاب نے لیو انکیشمنٹ نجکاری اور پینشن ختم کرنے کے فیصلوں کو غریب کے لیے ایک قتل گاہ قرار دے دیا ہے غریب پہلے ہی مہنگائی کی اس چکی میں پس کر رہ چکا ہے جو بچی کھچی 20 روپے فیس دے کر سرکار سکول میں اپنے بچوں کو پڑھا سکتا تھا اج وہ بھی اس کے ہاتھ میں نہیں ہے سرکاری سکول بند ہیں بچے سکول نہیں جا سکتے کافی بچے ریڑھیوں پہ مارکیٹوں میں کام کرتے نظر آرہے ہیں یہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو جو اج کل حرکت میں آئی ہوئی ہے یہ ان سب بچوں کو کس طرح سنبھالے گی اگر یہ سرکاری سکولوں میں ایک اچھا اور بہتر نظام کیا جائے تو پرائیویٹ سکول میرے خیال میں بند ہی ہو جائیں۔لیکن سرکاری سکولوں کے ٹیچرز کا مطالبہ بھی غلط نہیں ہے وہ بھی صیح حق پر ہیں کہ ہماری پینشن ختم نہ کی جائے اور جو حکومت پنجاب نے وعدے کیے تھے وہی پورے کیے جائیں لیکن حکومت ہے کہ ماننے کو تیار ہی نہیں اب سرکاری سکول تیسرے روز بھی بند ہیں سرکاری سکولوں میں جو پڑھائی ہوتی ہے وہ بھی آپکے سامنے ہے 30 فیصد ہی رزلٹ بڑی مشکل سے آتا ہے لیکن حکومت پنجاب نے سرکاری سکولوں کی نجکاری کا اعلان کیا تو یہ بھی ایک سانحہ ہے لہذا سرکاری سکول کے ٹیچرز کی گرفتاریاں بھی قابل مزمت ہیں ایک ٹیچرز تھانے کے ایس ایچ او جتنا سکیل رکھتے ہوئے بھی ایک کانسٹیبل گرفتار کرے بری بات ہے پہلے تو اس بات کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ ایک سرکاری سکول کے ٹیچر کو گرفتار کیا جائے باقی بات ہے حکومت کی کہ گورنمنٹ نے کیسے ایک سرکاری ٹیچر کو گرفتار کیا وزیراعلی پنجاب کی پہلی نجکاری جو نواب پور ملتان میں ہوئی تھی تبھی اگر آواز اٹھائی جاتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی حکومت پنجاب نے جب نواب پور میں سرکاری سکول کو پرائیویٹ میں تبدیل کیا تب سب سو رہے تھے تب نہ آواز نکلی اور نہ ہی کوئی احتجاج جب اپنی نوکریوں کے لالے پڑے تب سارے سرکاری ٹیچرز سڑکوں پر آئے افسوس اس بات کا ہے کہ گورنمنٹ ٹیچرز کی اپنی ذاتی بات تھی نواب پور گرلز اینڈ بوائے سکولز کو جب پرائیویٹ کیا گیا تو اسوقت غریب بچے پڑھتے تھے اسوقت بھی کئی بے سہارا تعیلم کے زیور سے آراستہ تھے ہمیں دکھ ہے کہ اسوقت ٹیچرز ایسوسی ایشن نے کیوں آواز نہ اٹھائی جب بات آن پہنچی ہے گلے کی ہڈی میں تو سب کچھ یاد آ گیا بہرحال ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بے وجہ صورتحال کو بڑھانے کی بجائے سرکاری سکولوں کی نجکاری بھی بند کرے اور پینشن اور لیوانکیشمنٹ بھی ختم نہ کیا جائے تاکہ غریب کے بچے اس تھوڑے سے علم سے محروم نہ ہو جائیں۔اگر آواز بننا ہے تو ہے ہر ضلع کی ہر علاقے کی آواز بنیں کیونکہ لوگ یہاں پر بھی رہتے ہیں اور پورے پاکستان میں رہتے ہیں مشکل وقت میں ہر پاکستانی کی آواز بنیں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تجاوزات کی بھر مار

اسرائیل کیا ہے؟

اشعار