ہمارا سسٹم تباہ ہو گیا؟
تباہ حال نظام کی ادھورے خواب کچھ ریزہ ریزہ تو کچھ بکھرے موتی نظر ان سب پر جو حق ہے دوسروں کا بس انتظار تو یہی ہے کوئی آئے گا۔آجکل سموگ اور پرائس کنٹرول کی نئی لہر برقرار رہنے لگی بس انتظار ہے کہ کب قانون نافظ العمل ہو گا قصہ تمام وقت تھوڑا لوگ ایک ہی سوال ذہنوں میں بھرے ہوئے ہیں کہ کب یہ قانون نافظ ہو گا جو فرضی کاروائی تک ہی نظر آتا ہے باقی ملکوں میں ترقی کا ثمر ہی اس بات کا ہے کہ انہوں نے ترقی کیساتھ اپنے آپ کو ایک بیلنس میں رکھا ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں کہ اگر قانون امیر کے لیے ہے تو غریب کے لیے بھی وہی قانون ہے سبھی اسی چیز کو سمجھنے میں ہی ملک کی ترقی و سلامتی کا حصہ ڈالتے ہیں لیکن واحد ملک عظیم پاکستان جہاں پر قانون صرف کمزور کے لیے ہے غریب بے سہارا فرد واحد کے لیے قانون ہے ملکی حالات کے پیش نظر ایک مکالمہ شروع کر رہا ہوں کہ اب سموگ کاروائیاں جاری ہیں خشت بھٹہ جات کی انسپکشن کیساتھ جرمانہ بھی کیا جاتا ہے لیکن یہ زیگ زیگ پالیسی اور گاڑیوں انسپکشن صرف سردیوں کے قریب ہی کیوں ہوتی ہے اس کی مستقل جانچ کیوں نہیں ہوتی کیوں اسے فردی تربیت کے طور پر کیا جاتا ہے اگر آپ نے قانون نافظ کیا ہے تو وہ ہر فرد کے لیے نافظ العمل ہو کیوں وہ صرف کمزور کے لیے ہے۔پرائس کنٹرول کمیٹیاں صرف فرضی کاروائی سے لیکر کاغذ پر دو چار نشان ڈالنے تک ہی محدود ہیں کیونکہ انہوں اس سے بڑھ کر کوئی کام ہی نہیں کیا مزید یہ کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں پر تاکید کرنا ہمارا فرض نہیں ہے لیکن حکومت کچھ بہتر کارکردگی دکھائے گی تو سمجھ میں آئے گا کہ ہمارے لیے کوئی کام کرنے والا باشناس آفیسر انصاف فراہم کرنیوالا اعلی سطح کا افسر تھا ہماری پہچان ہی ایمانداری اور محنت ہے لیکن پھر بھی ہم اس اہم فریضے کو کیسے بھول گئے ہیں محنت سے مراد یہ نہیں ہے کہ ہم کن ممالک سے مل رہے ہیں جن ممالک سے سہولیات لے رہے ہیں محنت یہ ہے اپنے ملک کی فیلڈ کو دیکھیں کہ کیسے کام کر رہی ہے ہماری فیلڈ میں کہاں کہاں ہیرے ہیں جو وہ کام کر سکتے ہیں جو کوئی نہیں کر سکتا بس اتنا ہی نہیں کہ ہمارے پاس سہولیات کی کیوں کمی ہے اگر ہم اپنے ملک قوم کے بارے میں سوچیں گے تو شاید ہمیں بھیک کا کٹوارہ ہر کسی کو نہ دکھانا پڑے کیونکہ ہماری بھیک مانگنے والے ہاتھ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہم فقیر حاکم کسی کام کے نہیں ہیں ہمارے بے حمیت حاکموں نے ہمارے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے لیکن پھر بھی کوئی سوچ نہیں رکھتے حساب رکھنے والے مل کر کھا رہے ہیں تو کیسے کوئی حساب رکھے گا اب عوام تو خوش نظر آ رہی ہے کہ پٹرول کی قیمت کم ہو گئی ہے چند دنوں بعد یہی عوام چیخے گی اور دھاڑیں مار کر روئے گی کہ اتنی مہنگائی کیوں ہو گئی ہمارے ملک سے باہر سمگلنگ ہونیوالا مال ہمارے ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے ہماری فیلڈ میں کام کرنیوالی ایجنسیاں بس فیلڈ تک ہی محدود ہیں کیونکہ یا تو وہ بے خبر ہیں یا پھر کچھ اور نظر آتا دکھائی دے رہا ہے بہرحال قصہ کہانی کسی اور طرف مڑ رہی ہے دوسری طرف کہانی یہی نظر آتی ہے کہ ہمارے ملک کا لاء اینڈ جسٹس بلکل زیرو پوائنٹ پر ہے اگر ایسی پالیسیاں تیار کی جائیں جس میں قانون کو برابر تر سمجھا جائے تو یہ نوبت ہی نہ آئے حالانکہ ضلعی انتظامیہ کے سو کام ہیں لیکن پھر بھی ضلعی انتظامیہ وہ کام کرتی ہے جو دوسرے ادارے نہیں کر رہے اگر ہر ادارہ فوٹو سیشن کے علاؤہ بھی کام کرے اور عوام بھی ساتھ دے تو ہزاروں مسائل کا حل چند منٹوں میں نکل سکتا ہے لیکن یہاں پر یہی بات کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے یہ پاکستان ہے یہاں پر کچھ بھی ہو سکتا ہے او بھائی اگر ایسا نظام اور ایسا قانون ہے تو اسکی زمہ دار بھی محب وطن پاکستانی عوام خود ہے گھر میں چھوٹی سی لڑائی ہو تو 15 پر پولیس کو کال کر دی جاتی ہے ایف آر درج ہوئی تو پولیس کو چند ٹکوں کے عوض خرید کر اپنی نفس کی خواہش کو پورا کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے بس بات تو یہیں ختم ہی ہو جاتی ہے جب قانون کو میرٹ پر فیصلہ ہی نہیں کرنے دیا جاتا تو پولیس کہاں قانون سازی میں اہم کردار ادا کرے گی اگر ایک پولیس افسر پیسے نہیں لیکر کام کرتا تو اسے فوری تبدیل کروانے میں بھی ہم دیر نہیں کرتے تاکہ کوئی ایسا آئے جسکی سوچ ہماری سوچ سے ملتی ہو کیونکہ اگر ایماندار افسر ہو گا تو وہ تو ہمارے عیب دنیا کو دکھائے گا جس طرح کے حالات ہیں یہ کچھ ہے۔بات کا رخ بدل گیا لیکن بات تو یہاں سے شروع ہوئی تھی کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور سموگ کے تدارک کیلئے انتظامات کیوں سردی میں ہوتے ہیں سردیوں میں لازم اسلیے ہوتے ہیں کہ سموگ کیساتھ ہوا میں آلودہ فضا میں سموگ کا تدارک بہت ضروری ہے لیکن یہ کاروائیاں ہر وقت ہونی چاہیے آگے بات آ جاتی ہے پرائس کنٹرول کی تو یہ ٹیمیں صرف فوٹو سیشن تک ہیں کیونکہ ان کی یہ فوٹو سیشن ہی ڈیوٹی ہے ضلعی انتظامیہ کے افسر جتنا مرضی کوششیں کر لے انہوں نے اپنی مرضی کرنی ہوتی ہے گزشتہ روز ایک رکشہ ڈرائیور مجھے ملا تو باتوں سے بات چل پڑی کہ مہنگائی تو کم ہو گئی ہے اب کیوں رو رہے ہو وہ کہنا لگا کہ جناب کہاں مہنگائی کنٹرول ہو رہی ہے گیس 20 روپے 50 کلو میں مہنگائی ہو تو مافیا 1 کلو پر گیس کے 20 روپے بڑھا دیتا ہے میں نے پوچھا یہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی کم کروا سکتا ہے وہ کہنا لگا وہ بھی کروا سکتا ہے فوڈ والے بھی کروا سکتے ہیں میں نے کہا وہ تو گھریلو سلنڈر کر کروا سکتے ہیں لیکن کمرشل وہ بولا کہ جناب عالی پرائس کنٹرول مجسٹریٹ تو کروا سکتا ہے لیکن پہلے بھی پرائس کنٹرول مجسٹریٹ نے جرمانے بھی کیے تھے اور پولیس پکڑ بھی لے گئی لیکن پھر وہی حال ہے حکومت کو اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے وہ ایک ایسا نظام بنائے جس میں کوئی قانون کی خلاف ورزی کرنے کی سوچے ہی نہ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ان پڑھ رکشہ ڈرائیور اتنی بات کر رہا ہے لیکن پھر بھی حکومت خاموش کچھ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔اس تباہ حال سسٹم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں ہیں انکی آب بیتی سنی جائے انہیں کس قوت وقت نے باندھ رکھا ہے بس قانون نام کی چیز تو کہیں نظر ہی نہیں آتی ادارے،عدلیہ،تھانے اور ہر سرکاری دفتر اپنی من مانی کی مجموعی حکمتِ عملی دکھاتا نظر آتا ہے ہمارے سکیورٹی فورسز ادارے بھی ہر جرم کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں