【ملکی ترقی اور سیاستدان】
ہمارا ملک پاکستان جب وجود میں آیا تب سے ایک ہموار اور کھٹن حالات سے گزر رہا ہے جسکی کوئی ایک مثال نہیں ملتی وقت کیساتھ ساتھ کچھ لوگ بدلے نئے چہرے ملک پر حاکم بنے جس سے سنا ہر دور کا وقت حاکم خود ہی ایک ہیرو تھا لیکن دور بدلے عرصہ گزرا مگر پاکستان معاشی طور مستحکم حکومت نہ بنا سکا کیونکہ اس ملک پر قابض بیرونی طاقتیں ہمارے ملک کو اجاڑ رہی ہیں فتنہ و خوف اتنا ہو گیا ہے کہ ملکی معیشت کا دارومدار زراعت پر تھا پاکستان میں زراعت خود بیساکھیوں کے بل بوتے پر کھڑی ہے ہمت نہیں کہ اسکو کیسے سدھارا جا سکے۔ہمارے معزز و محترم سیاستدان جو شرافت کا لبادہ اوڑھ کر چلتے ہیں ملکی معیشت و تجارت کا پہیہ جام کرنیوالے سب سے بڑے مافیا نکلے ہیں زراعت 2018 سے لیکر 2022 تک صیح سمت میں جا رہی تھی اور اس سے پہلے زراعت نے 1992 سے 1994 تک اور 2008 سے 2010 اور 2013 سے 2014 میں بس صرف نہ ہونے کے برابر ترقی کی ہے پاکستان صرف 0.1 فیصد زراعت کی ترقی میں نمایاں رہا ہے ہمارا ملک پاکستان ایک نیچلے اور کھوکھلے نعروں پر مشتمل رہا کہ پاکستان کون بچائے گا یہ ہر سیاسی پارٹی کا نعرہ رہا ہے عملی طور کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ایک حکومت آئی اس نے اربوں روپے کا چونا لگایا الزام گزشتہ حکومت پر تھوپنے کے بعد استعفی دے دیا ملکی امن و سلامتی پر بات کریں تو وزارتِ داخلہ و خارجہ پالیسیوں سے تو ملک ایک کھوکھلا ہٹ کا شکار رہا ہے جس میں امن و امان کی صورتحال پر تو ان دونوں وزارتوں نے کچھ بھی نہیں کیا جن ملکوں نے امن و امان اور قانون کی پاسداری کی ہے وہ ملک آج خوشحال ہیں جیسا کہ جاپان ہمارے پاکستان سے زیادہ لنگڑا تھا امریکہ نے جاپان کا نام و نشان ختم کر دیا تھا ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے بڑے شہر تباہ کر دیے تھے جہاں پر آج بھی ایٹمی بارود کی بو سے بچوں کی پیدوار اپاہج ہے جاپان نے امن و امان قائم کرنے کیساتھ وزارتِ داخلہ و خارجہ پالیسی کا اتنا بڑا رول ماڈل دیا کہ وہاں پر ملکی ترقی خاموشی سے ہوئی کہ ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا پوری دنیا نے دیکھا اور آج وہ امریکہ جو جاپان کو تباہ کرنے جا رہا تھا وہ آج اسی کی بنائی گئی جاپانی گاڑی پر بیٹھ کر سفر کر رہا ہے کیونکہ ملک ایمانداری داخلہ و خارجہ پالیسی میں سخت ایکشن سے اور بڑے بتوں کو گرانے سے چلتے ہیں یہ نہیں کہ جس کی جو مرضی آئے وہ کرتا چلا جائے ایسے ملک نہیں چلتے ہمارے ملک کے قانون کو ختم کر دیا گیا ایک اسلام آباد ہائیکورٹ کا جج فیصلہ کرتا ہے تو کل پشاور ہائیکورٹ یا لاہور ہائیکورٹ اس فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے کل کو نیا فیصلہ سنا دیتا ہے جس میں آئین کی بات ہی نہیں ہوتی میرے خیال سے جو تبصرے بحث و مباحثہ ہو رہے ہیں انکی اصل ذمہ داری ہمارے ملک کی ناقص کارکردگی و پالیسوں کی وجہ سے ہو رہا ہے ہمارے ملک کا قانون تو یہ ہے کہ یہاں پر جسکا ڈنڈا ہے وہی ملک کا حاکم ہے اور جسکا ڈنڈا نہیں ہے وہ عوام ہے جو پس رہی ہے 2018 سے لیکر 2022 تک مہنگائی ہوئی عوام کی چیخیں نکل رہی تھیں اسوقت بھی دھرنے احتجاج کیے گئے مگر اصولاً کچھ نہ ہو سکا 2022 عدم اعتماد سے حکومت تبدیل ہوئی 25 فیصد ہر ماہ مہنگائی کا طوفان آیا احتجاج ہوئے مگر کوئی فرق نہیں پڑے 2023 کے احتجاج میں ایک شخص نے کہا کہ ہماری آرمی چیف سے گزارش ہے کہ وہ مہنگائی کو کنٹرول کریں کیونکہ ہمیں تو پتہ ہے ملک کیسے چل رہا ہے آئی پی پیز سے معاہدے ملک اور عوام کیلئے جان لیوا ثابت ہوئے کیونکہ ان پالیسیوں سے پاکستان میں بجلی مہنگی ہوئی وفاقی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے مہنگی تو ہر دور میں ہوئی عوام سڑکوں پر آئی مگر کسی کو یاد نہیں آتی ایک ہی ضد کہ ہمیں کرسی پر بیٹھنا ہے کچھ باتیں ایسی بھی کی گئی ہیں کہ جنکا تعلق صرف معاشی ترقی سے ہے ہمارے پاکستان میں موٹر وے،سڑکیں،صفائی،تنخواہوں میں اضافہ،پینشن میں اضافہ،ماڈل یونیورسٹیز،ماڈل کالجز،جدید مشینریاں تو دی گئیں مگر محکمے ادارے صرف تکتے رہ گئے کہ کہاں سے سارا سامان آ رہا ہے ایک حکومت آئی اس نے ایک سڑک کی بنیاد ڈالی اور چل دی پورے پانچ سال میں وہ سڑک اور سنگل روڈ مکمل نہ ہوا دوسری حکومت آئی اس نے اسی روڈ پر نیا بجٹ پیش کیا اس نے پانچ سال میں مکمل کروایا ایک حکومت جو پانچ سال ملک کو لوٹتی ہے اگلی حکومت اسی لوٹ کھسوٹ کو سیٹ کرنے پر کام کرواتی ہے اگر ایک سنگل روڈ پر بجٹ 2 فیصد ہے تو 3.5 فیصد منظور کروا لیا جاتا ہے تاکہ موٹی کمائی ہو سکے ہمارے سیاست دانوں نے ملک کو کاروبار بنا لیا ہے آئین و قانون اور انصاف و ترقی کاروبار بن کر رہ گیا کہیں کوئی حد نہیں ہے جہاں کوئی بیٹھا ہے وہ سب سے بڑا ہے۔
سیاست کو تو صرف ملکی معیشت اور ترقی میں استعمال کرنا تھا لیکن یہاں پر نام نہاد لوگ سیاست کو پتہ نہیں کہاں کہاں لیکر گئے ہیں ملک کو امن میں لانا چاہتے تھے مگر یہ تو کھیل دوسری طرف مڑ گیا ملک میں دہشتگردی کے خاتمے میں کوئی کردار ادا نہیں ہوا۔
1. روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں حادثے ہوتے سکول کے بچے زخمی ہوتے ہیں مر جاتے ہیں،سیاست کا کیا کردار ہے؟
2.شاپنگ مالز،مارکیٹس میں آگ لگنے کے واقعات تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے،سیاست کا کیا کردار ہے؟
3.سینکڑوں افراد اغوا برائے تاوان،ذاتی دشمنی میں اٹھا لیے جاتے ہیں،سیاست کا کیا کردار ہے؟
4.پولیو ورکر کو گھریلو پالتو کتے کاٹ لیتے ہیں مگر میڈیکل نہ آنے تک ایف آئی آر نہیں ہوتی،سیاست کا کیا کردار ہے؟
یہ تو چند باتیں ہیں جنکا ذکر میں نے کیا ہے شاید 80 فیصد واقعات ہوتے ہیں ہمارے ملک میں کون ذمہ دار ہے سیاست دان ان سیاستدانوں کی وجہ سے ملکی ترقی و خوشحالی کو نقصان ہوا ہے مارشل لگے ہیں تو ناقص کارکردگی صرف پولیٹکس پارٹیاں تھیں تمام تر صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر سوشل میڈیا پر جو کچھ ہو رہا ہے اسکا ذمہ بھی سیاسی جماعتوں پر رہے گا کیونکہ انکی ناقص کارکردگی رہی ہے اگر ہماری سیاسی جماعتیں اچھا کام کرتیں تو آج سوشل میڈیا پر غلط مواد شیئر نہ کیے جاتے یہ جو بھی پروپیگنڈہ ہو رہا ہے اسکا ذمہ تمام سیاسی جماعتوں کے سر رہے گا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں